29 ستمبر 2013 - 20:30

روس کی پارلیمنٹ کے ایک سابق رکن نے رہبر معظم حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار اور ان ہتھیاروں کی نگہداشت کو حرام قرار دیئے جانے کے فتوے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کا یہ فتویٰ اس ملک کے جوہری مسئلے کا حل ہے۔

ابنا: شامیل سلطان اف نے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالم بشریت کے لئے جوہری ہتھیاروں کے نہایت ہی خطرناک اثرات اور ان ہتھیاروں کی پیداوار اور انکی نگہداشت کو منع فرمایا ہ۔ سلطان اف نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ دہائی میں اپنے پر امن ایٹمی پروگرام پر عمل کرتے ہوئے اس تناظر میں کشیدگی کو کم کرنے کی بھی کوشش کی ہے تاکہ تہران کی ایٹمی سرگرمیوں سے کوئی تشویش پیدا نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے ایران کی سب سے بڑی کوشش جوہری انرجی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ بھرپور تعاون ہے اور آئی اے ای اے کے معاینہ کاروں نے بھی ایران کی ایٹمی تنصیبات کا منظم طریقے سے معاینہ کیا ہے۔ سلطان اف نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایران کی پیہم کوششوں کے باوجود اور بعض طاقتوں کی شر انگیزی کے نتیجے میں تہران کے ایٹمی پروگرام کو سیاسی رنگ دے دیا گیا ہے اور آئی اے ای اے نے بھی اس قسم کے رجحان کی پیروی کرتے ہوئے ایران کی مفاہمت کی پالیسی کے باوجود ایران کے ایٹمی پروگرام کی پر امن ماہیت کی سو فیصد تصدیق کرنے سے گریز کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو سال قبل ایران کے رہبر انقلاب اسلامی نے جو فتویٰ دیا اس نے ایران کت ایٹمی پروگرام کو پر امن ثابت کرنے کے لئے فضا فراہم کردی اور ایران کو مغرب کے ساتھ ایٹمی معاملے میں مفاہمت پیدا کرنے کا موقع ملا۔

.......

/169